ممبئی، 29؍ ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران بزرگوں کی خودکشی کے معاملات میں 31 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ معلومات ممبئی پولیس کی جانب سے حق اطلاعات ایکٹ(آرٹی آئی) سے سامنے آئی ہے۔ اعدادوشمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے دوران معاشی نقصان، بے روزگاری وغیرہ کی وجہ سے مرد زیادہ ذہنی طور پر پریشان تھے۔ لاک ڈاؤن کا سب سے بڑا اثر بزرگوں پر پڑا! یہ حق اطلاعات ایکٹ(آر ٹی آئی )سے ملی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے۔ 2019 کے مقابلے میں 2020 میں بزرگ شہریوں کی خودکشی کے واقعات میں 31 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ممبئی پولیس کے آر ٹی آئی کے تحت آر ٹی آئی کارکن جتیندر گھڑگے کو ملی معلومات کے مطابق، جہاں سال 2019 میں 92 بزرگ افراد نے خودکشی کی، 2020 میں یہ تعداد بڑھ کر 121 ہوگئی۔ ان میں سے بزرگ خواتین کی خودکشی کے معاملات میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ بزرگ مردوں کی خودکشی کی تعداد میں 21 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سال 2020 میں کل 1282 افراد نے خودکشی کی۔ یعنی روزانہ اوسطا3 افرادنے موت کو گلے لگایا جبکہ 2019 میں یہ تعداد 1229 تھی۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران معاشی نقصان، بے روزگاری وغیرہ کی وجہ سے مرد زیادہ ذہنی طور پر پریشان تھے۔ آر ٹی آئی کے اعداد و شمار کے مطابق، 18 سے 60 سال کی عمر کے مردوں میں خودکشی کے ثبوت میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سال 2019 میں یہ تعداد 715 تھی جو 2020 میں بڑھ کر 816 ہو گئی۔ چنانچہ 18 سے 60 سال کی خواتین میں خودکشی کے واقعات میں 13 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ سال 2019 میں 312 خواتین نے خودکشی کی، 2020 میں یہ تعداد کم ہوکر 269 ہوگئی۔ وہیں 18 سال سے کم عمر کے افرادمیں ایسے واقعات میں 13 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔